Friday, March 20, 2009

حکایتِ سعدی

ایک بادشاہ نے منت مانی کہ اگر اس کی مشکل حل ہو گئی تو شہر کے زاہدوں کواتنے ہزاردرِہم دوںگا- جب مشکل حل ہو گئی تو اس نے اپنے خاص ملازم کو وہ رقم دی کہ زاہدوں میںتقسیم کر دو-غلام سمجھدارآدمی تھا-سارادن پھرپھرا کرشام کو ساری رقم بادشاہ کے آگے رکھہ دی اور کہا
"شہرمیں کوئی زاہد نہیں ملا'جویہ رقم لیتا"
بادشاہ نے کہا- شہر میں تو ہزاروںزاہد ہیں
غلام نے دست بستہ عرض کیا-" جو زاہد ہے وہ لیتا نہیں'جولیتا ہے وہ زاہد نہیں

8 comments:

محمد وارث said...

لا جواب اور کیا گہرے مشاہدے کی بات ہے سعدی کی۔

Anaa said...

یہی تو کمال ہے سعدی کا کہ مشکل باتیں اپنی حکایتوں کے زریعے ہمارے لئے سمجھناآسان کردیں

Lafunga said...

زاہد رندِ خراب حال کو نہ چھیڑ تُو
تجھے پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تُو

jafar said...

بہت اعلی۔۔۔ :smile:

Anaa said...

لفنگا: شعر تو خوب سنایا ہے آپ نے
جعفر:بات سعدی نے کہی ہو اور اعلیٰ نا ہو

ڈفرستان said...

سیانا تو بادشاہ ہوا نا
پس ثابت ہوا
منت مانتے ہویے بھی عقلمندی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرنا چاہیے

Asma said...

lolz @ duffer too :)

Anaa said...

ڈفر بھائی، بادشاہ آپ جیسا سیانا جو ہوا