Monday, March 30, 2009

پاکستا ن کے سارے شہروں زند ہ رہو پائندہ رہو

کچھ چیزیں اتنی تکیف دہ ہو تیں ہیں کہ ان کے بارے میں بات کرنے کا دل ہی نہیں چاہتا-جیسے جب آج جیو ٹیلی ویژن پر اس ماں کی آہ وبکا سنی جسکا جواں سال بیٹامناواں پولیس سینٹر حملے میں شہید ہوگیااور جو راجہ ریاض سے ہسپتال میں کھڑے ہو کر یہی سوال مسلسل دھراتی تھی کہ "اب میرا بیٹا کدھر سے آئے گا اور کون لائے گا"اس ماں کو کون سمجھائے کہ مسافر راہئ ملکِ عد م کب لوٹ کر آئے ہیں-ایک نظم جس کےشاعر شائید امجد اسلام امجد ہیں
میرے شہروں کو کس کی نظر لگ گئی
میری گلیوں کی رونق کہاں کھو گئی
ہم تو نکلے تھے ہاتھوں میں سورج لئےرات کیوں ہوگئی
رات کیوں ہوگئی طالبانِ سحر،آؤ سوچیں زرا
تم بھی سوچو زرا ،ہم بھی سو چیں زرا
آگہی سے پرے روشنی کے بنا
جتنے امکان ہیں سارے مر جائیں گے
جو بھی تخلیق ہے وہ بکھر جائے گی
زندگی اپنے چہرے سے ڈر جائے گی
طالبانِ سحر،آؤ سوچیں زرا
تم بھی سوچو زرا ،ہم بھی سو چیں زرا

7 comments:

jafar said...

دل پتھر ہو چکے ہیں اب تو ہمارے ۔۔۔
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

Tauqeer said...
This comment has been removed by the author.
Tauqeer said...

الله ہميں اور ہمارے ملک کو اس مشکل گھڑي سے جلد نکالے-آمين

Zios said...

Allah bless my motherland..and guide us to the true path :-)

Kami said...

ماں کا درد کوئی محسوس نہیں کر سکتا جو جنم سے لیکر جوانی تک اور پھر اپنے بچوں کے بچوں کو بھی پالتی ہے جس کی ممتا مرتے دم تک کم نہیں ہوتی ایسی ماں جیتے جی مر جاتی ہے ایسی ماوں کو میرا سلام ہے جیو ماں۔ :sad:

Anaa said...

ھیک کہا جعفر آپ نے،،احساس واقعی مرنے لگا ہے
توقیر،آپ کو اردو بلاگ پر دیکھ کر اچھا لگا،،خوش آمدید
Zios,,امین
کامی ،بلاگ پر خوش آمدید ٹھیک کہا آپ نے ماں کا درد ماں ہی سمجھ سکتی ہے

yesterdaywazbetter said...

i know.... its so sad and heart breaking.....

wat are we suppose to do ... jst sit and watch ???