Friday, March 26, 2010

جواب

حضرت لقمان نے باوجو د درازٰٰی عمر کے کوٰی مکان نہیں بنایا-ایک جھونپڑی میں وفات پا گٰے -ملک االموت نے پوچھا
“باوجود اتنی طویل زندگی کے آپ نے مکان کیو ں نہیں بنایا ؟“
آپ نے فرمایا "جس کی تاک میں آپ رہیں تو اس کو مکان بنانے کی کب سو جھتی ہے ؟

Tuesday, March 23, 2010

یوم پاکستا ن


ایک یہی پہچان تھی میری ، اس پہچان سے پہلے بھی
پاکستان کا شہری تھا ، پاکستان سے پہلے بھی
یوم پاکستا ن مبارک ہو

Saturday, February 27, 2010

عید میلا د النبی مبارک

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہا ں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

Friday, November 20, 2009

میں نہیںمگر کچھہ بھی
سنگ دل رواجوں کے
آہنی حصاروں میں
عمر قید کی ملزم
صرف ایک لڑکی ہوں

Saturday, April 18, 2009

زندگی

خضر نے آبِ حیات کے چشمے پر سکندر سے کہا کہ ،موت مشکل ہے لیکن زند گی اس سے بھی زیادہ مشکل

Thursday, April 16, 2009

پیرِکامل

زندگی میں ہم کبھی نہ کبھی اس مقام پر آجاتے ہیںجہاں سارے رشتے ختم ہوجاتے ہیں-وہاںصرف ہم ہوتے ہیں اور اللہ ہوتاہے-کوئی ماں باپ،کوئی بہن بھائی کوئی دوست نہیں ہوتا-پھر ہمیں پتا چلتاہے کہ ہمارے پاؤں کے نیچے نہ زمین ہے نہ ہمارے سر کے اوپر کوئی آسمان،بس صرف ایک اللہ ہے جو ہمیں اس خلامیں تھامے ہوئے ہے -پھر ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہم زمین پر پڑی مٹی کے ڈھیر میں ایک زرے یا درخت پر لگے ہوئے ایک پتے سے زیادہ کی وقعت نہیں رکھتے-پھر ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہمارے ہونے یانہ ہونے سے صرف ہمیں فرق پڑتا ہے -صرف ہمارا کردار ختم ہو جاتا ہے -کائنات میں کو ئی تبدیلی نہیں آتی کسی چیزپر کوئی اثر نہیں پڑتا

عمیرا احمد کے پیرِکامل سے اقتباس
جعفرکے بلاگ پر آج کل خواتیں ڈائجسٹوں کا بڑا چرچا ہے - سب کی طرح میں نے بھی ان ڈائجسٹوں کا بغور مطالعہ کر رکھا ہے- ہر فلم اور ڈرامہ کی طرح خواتین ڈائجسٹوں کی کہانیو ں کا مرکذ ومحور عشقِ مجازی ہے لیکں بحرحال کچھ رائٹرز نے اپنےنئے موضوعات کی بدولت اپنے آپ کو منوایا ہے- عمیرا احمد کا شمار ایسی ہی رائٹرز میں ہو تا ہے - میں نے ان کی کہانیوں سے بہت کچھ سیکھا ہے بلک کچھ کہانیوں سے محبت کی ہےاور ٫رپیرِکامل انھی میں سے ایک ہے۔

Monday, March 30, 2009

پاکستا ن کے سارے شہروں زند ہ رہو پائندہ رہو

کچھ چیزیں اتنی تکیف دہ ہو تیں ہیں کہ ان کے بارے میں بات کرنے کا دل ہی نہیں چاہتا-جیسے جب آج جیو ٹیلی ویژن پر اس ماں کی آہ وبکا سنی جسکا جواں سال بیٹامناواں پولیس سینٹر حملے میں شہید ہوگیااور جو راجہ ریاض سے ہسپتال میں کھڑے ہو کر یہی سوال مسلسل دھراتی تھی کہ "اب میرا بیٹا کدھر سے آئے گا اور کون لائے گا"اس ماں کو کون سمجھائے کہ مسافر راہئ ملکِ عد م کب لوٹ کر آئے ہیں-ایک نظم جس کےشاعر شائید امجد اسلام امجد ہیں
میرے شہروں کو کس کی نظر لگ گئی
میری گلیوں کی رونق کہاں کھو گئی
ہم تو نکلے تھے ہاتھوں میں سورج لئےرات کیوں ہوگئی
رات کیوں ہوگئی طالبانِ سحر،آؤ سوچیں زرا
تم بھی سوچو زرا ،ہم بھی سو چیں زرا
آگہی سے پرے روشنی کے بنا
جتنے امکان ہیں سارے مر جائیں گے
جو بھی تخلیق ہے وہ بکھر جائے گی
زندگی اپنے چہرے سے ڈر جائے گی
طالبانِ سحر،آؤ سوچیں زرا
تم بھی سوچو زرا ،ہم بھی سو چیں زرا