Friday, March 13, 2009

لانگ مارچ کے نام

اعتزاز احسن کی نظم کل آج اور کل- ویسے تو یہ ایک کافی طویل نظم ہے میں اسکے کچھہ حصےجو لال بینڈ نے گائے ہیں وہی آپ کے ساتھ شیئر کر رہی ہوں

عہدِجوانی میں ہم نے دیکھیں تھے کچھہ خواب سہانے
ان خوابوں میں ہم لکھتے تھے اکثر خوشیوں کے افسانے
ایک نئی دنیا کے فسانے ایک نئی دنیا کے ترانے
ایسی دنیا جس میں کوئی د کھہ نا جھیلیں بھوک نا جانیں
ایک طرف تھی جنتا ساری ایک طرف تھے چند گھرانے
ایک طرف تھے بھوکے ننگے ایک طرف قاروں کے خزانے
ایک طرف تھی مائیں بہنیں ایک طرف تحصیل اور تھانے
ایک طرف تھی تیسری دنیا ایک طرف بیداد پرانے
ایک طرف سچل اور باہو ایک طرف ملا اور مسلک
ایک طرف تھے ہیر اور رانجھا ایک طرف قاضی اور چوچک
ایک طرف امرت کے دھارے ایک طرف تھےدھارے بھس کے
ساری دنیا پھوچ رہے تھی بولو اب تم ساتھہ ہو کس کے
ہم یہ باور کر بیٹھے تھے سب ساتھی ہیں مزدوروں کے سب ہم حامی ہیں مجبوروں کے سب ساتھی ہیںمحکوموں کے
چیںنے جب ایک جست لگائی ہم بھی اس کے ساتھ چلے تھے
چوں نے جب آواز اٹھائی ہاتھ میں ڈالے ہاتھہ چلے تھے
مزہب کی تفریق نہیں تھی اور ہم سارے ایک ہوئے تھے
دنیا کی تاریخ گواہ ہے عدل بنا جمہور نہ ہو گا
عدل ہوا تو دیس ہماراکبھی بھی چکنا چور نہ ہو گا
عدل بنا کمزور ادارےعدل بنا کمزور اکائیاں
عدل بنا بے بس ہر شہری عدل بنا ہر سمت دھائیاں
دنیا کی تاریخ میں سوچوکب کوئی منصف قید ہوا ہے؟
آمر کی اپنی ہی اَنا سےعدل یہاں ناپید ہوا ہے
یوںلگتاہے ایک ہی طاقت ارظ ِخداپہ گھوم رہی ہے
یوںلگتاہے ہرایک قوت ہاتھہ اس کے چو م رہی ہے
اسکی بمباری کے بائث خون میں سب لبریز ہوئےہیں
مزہب میںشدت آئی ہے خودکش جنگجو تیز ہوئے ہیں
عدل کے ایوانوں میں سن لواصلی منصف پھر آئیں گے
روٹی کپڑا اور گھر اپناجنتا کو ہم دلوائیں گے
آٹا بجلی پانی ایندھن سب کو سستے دام ملے گا
بے روزگاروں کو ہر ممکن روزگار اور کام ملے گا ریاست ہو گی ماں کے جیسی ہر شہری سے پیار کرے گی
فوج لگے گی سب کو اچھی جب سرحد کے پاس رہے گی
جاؤجاؤ سب سے کہ دوقدم ہمارے رک نہیںسکتے
جاؤجاؤ سب سے کہ دواپنے سر اب جھک نہیں سکتے
رستا تھوڑا ہی باقی ہے دیکھودیکھو وہ منزل ہے
ظالم ڈر کے بھاگ رہاہے جیت ہمارا مستقبل ہے
جیت ہمارا مستقبل ہےجیت ہمارا مستقبل ہے



Sunday, March 1, 2009

اپنی سلگرہ کے نام

آج میری سلگرہ ہے اور میں اداس بلکل نہیں ہوں -اعتبا ر ساجد کی یہ غزل مجھے پسند ہے
میں تکیے پر ستارے بورہاہوں
جنم د ن ہےاکیلارورہاہوں
کسی نےجھانک کردیکھانہ دل میں
کہ اندرسے میں کیساہورہاہوں
جودل پرداغ ہے پچھلی رتوں کے
انہیں اب آنسؤں سےدھوہورہاہوں
سبھی پرچھائیاں ہیں ساتھ لیکن
بھری محفل میں تنہاہورہاہوں
مجھےان نسبتوںسےکو ن سمجھا؟
میں رشتےمیں کسی کاجورہاہوں
میں چونک اٹھتاہوں اکثربیٹھےبیٹھے
کہ جیسے جاگتے میں سورہاہوں
کسے پانے کی خواہش ہے کہ ساجد
میں رفتہ رفتہ خود کوکھورہاہوں

خوامخواہ

ہیر نکلی جس گھڑی رانجھے کے سنگ
اسکا ما ما آنٹپکا خوامخواہ
چل رہے تھے اشتہار اچھے بھلے
ایک ڈرامہ آنٹپکا خوامخواہ

Saturday, February 28, 2009

اب کے سال پونم میں

یہ غزل پچھلے دنوں میں نے اتنی سنی کہ یاد ہو گئی- جہاں تک میر ی معلو مات ہے تو اسکے مطابق اسے نا صر کاظمی نے لکھا ہے اور بہت سے گلو کاروں نے اسے گایا ہے لیکن مجھے یہ مہدی حسن کی آواز میں پسند ہےاگر آپ سنا چاہیں تو یہ رہا لنک

اب کے سال پونم میں جب توآئے گی ملنے
ہم نے سوچ رکھا ہے رات یوں گزاریں گے
دھڑکنیں بچھادیں گےشوخ تیرے قدموں پے
ہم نگاہوں سے تیر ی آرتھی اتاریں گے
اب کے سال پونم میں جب توآئے گی ملنے
تو کہ آج قاتل ہے پھر بھی راحتیں دل ہے
زہر کی ندی ہے تو پھر بھی قیمتی ہے تو
پست حوصلیں والے تیرا ساتھ کیا دیں گے
زندگی ادھر آجا ہم تجھے گزاریں گے
اب کے سال پونم میں جب توآئے گی ملنے
آہنی کلیجے کو زخم کی ضرورت ہے
انگلیوں سے جو ٹپکے اس لہو کی حاجت ہے
آپ زلف جاناں کے خم سنوارئیےصاحب
زندگی کی زلفوں کو آپ کیاسنواریں گے
اب کے سال پونم میں جب توآئے گی ملنے
ہم تو وقت ہیں پل ہے تیز گام گھڑیاں ہیں
بے قرار لمحے ہیں بے تکان صدیاں ہیں
کوئی ساتھ میں اپنے آئے یا نہیں آئے
جو ملے گا رستے میں ہم اسے پکاریں گے
ا ب کے سال پونم میں جب توآئے گی ملنے

Saturday, February 21, 2009

آوازِدوست

آوازِدوست ان چند کتابوں میں سے ایک ہے جسے میں نے کئی بار پڑھا اور ہر بار پہلے سے زیادہ لطف محسوس کیا –مختار مسعودکہتےہیں
میں مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھا ان تین گمشدہ صدیوں کا ماتم کررہاتھا- مسجد کے مینار نے جھک کر میرے کان میںراز کی بات کہہ دی، جب مسجدیں بے رونق اور مدرسے بے چراغ ہو جائیں،جہاد کی جگہ جمود اور حق کی جگہ حکایت کو مل جائے،ملک کے بجائے مفاد اورملت کے بجائے مصلحت عزیزہو،اورجب مسلمانوں کو موت سے خوف آئےاورزندگی سے محبت ہو جائے تو صدیاںیوں ہی گم ہو جاتی ہیں۔

Wednesday, February 18, 2009

زند گی سےڈرتےہو؟


نذر محمد راشد1910ء میں ضلع گوجرانوالا کے قصبے وزیر آباد میں پیدا ہوئے ۔ انھوں نے ورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی- 1942ء میں ن م راشد کا پہلا مجموعہ ’ماورا‘ شائع ہوا جو نہ صرف اردو آزاد نظم کا پہلامجموعہ ہے بلکہ یہ جدید شاعری کی پہلی کتاب بھی ہے
زند گی سےڈرتےہو؟
زنگی توتم بھی ہو،زندگی توہم بھی ہيں
آدمی سےڈرتےہو
آدمی توتم بھی ہو، آدمی توہم بھی ہيں
آدمی زباں بھی ہے، آدمی یياں بھی یے
اس سےتم نہيں ڈرتے
ان کہی سےڈرتےہو
جوابھی نہیں آئی اس گھڑی سے ڈرتے ہو
اس گھڑی کی آمد کی آگہی ساڈرتے ہو
پہلے بھی تو گزرے ہیں
دور نارسائی کے،بےریاخدائی کے
پھر بھی یہ سمجھتے ہو ،ہیچ آرزو مندی
یہ شب زباں بندی ، ہے رہ خداوندی
تم مگر یہ کیا جانو،
لب اگر نہیں ہلتے
ہاتھ جاگ ا ٹھتے ہیں
ہاتھ جاگ ا ٹھتے ہیں راہ کا نشا ں بن کر
نور کی زباں کر
ہاتھ بول ا ٹھتے ہیں صبح کی اذاں بن کر
روشنی سےڈرتےہو؟
روشنی توتم بھی ہو،روشنی توہم بھی ہيں
روشنی سےڈرتےہو
شہر کی فصیلوں پر
دیو کا کو سایہ تھا پااک ہو گیا آخر
رات کا لبادہ بھی
چاک ہو گیا آخر،خاک ہو گیا آخر
اڎدہام انسا ں سے فرد کی نوا آئی
ذات کی صدا آئی
راہ شوق میں جیسے راہرو کا خوں لپکے
اک نیا جنوں لپکے
آدمی چھلک اٹھے
آدمی ہنسے دیکھو،شہر پھر بسے دیکھو
تم ابھی سے ڈرتے ہو ؟
ن-م-راشد

Wednesday, January 14, 2009

Quote

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہۓ
استاد سبق ديتا ہۓاور پھر امتحان ليتا ہۓاور زندگی امتحان ليتی ہۓ اور پھر سبق ديتی ہۓ