آج میری سلگرہ ہے اور میں اداس بلکل نہیں ہوں -اعتبا ر ساجد کی یہ غزل مجھے پسند ہے
میں تکیے پر ستارے بورہاہوں
جنم د ن ہےاکیلارورہاہوں
کسی نےجھانک کردیکھانہ دل میں
کہ اندرسے میں کیساہورہاہوں
جودل پرداغ ہے پچھلی رتوں کے
انہیں اب آنسؤں سےدھوہورہاہوں
سبھی پرچھائیاں ہیں ساتھ لیکن
بھری محفل میں تنہاہورہاہوں
مجھےان نسبتوںسےکو ن سمجھا؟
میں رشتےمیں کسی کاجورہاہوں
میں چونک اٹھتاہوں اکثربیٹھےبیٹھے
کہ جیسے جاگتے میں سورہاہوں
کسے پانے کی خواہش ہے کہ ساجد
میں رفتہ رفتہ خود کوکھورہاہوں